Home / UrduNews / International news / سحودی عرب ميں ايسا کيا جس سے سب کو پرشاني کا سا منا

سحودی عرب ميں ايسا کيا جس سے سب کو پرشاني کا سا منا

Share to someone
  •  
  •  
  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

سعودی عرب کے آتش فشانی کنوؤں نے سب کو حیران کر دیا

ہزاروں سال پُرانے آتش فشانی کنوؤں کے دلفریب مناظر سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز بن گئے

سعودی عرب میں صرف ریگستان ہی نہیں، نخلستان، برفیلے پہاڑ، لہلہاتی فصلیں، ٹھنڈے چشمے، موسمی دریا اور پتھریلے بلند و بالا پہاڑ بھی ہیں۔ یہی نہیں، یہاں پر آتش فشانی پہاڑوں کے بھی طویل سلسلے ہیں۔ العربیہ نیوز کے مطابق مغرب میں واقع کچھ آتش فشاں پہاڑی سلسلے اور ان کے نتیجے میں بننے والے کنوئیں ہزاروں سال سے اپنا وجود رکھتے ہیں اور ہر دور میں یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
زکزیک کی شکل میں آتش فشاں پہاڑی علاقے آتش وآہن اگلتی ہمہ رنگ شکلوں میں پائے جاتے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے قدرتی مقامات کی فوٹو گرافی کے شوقین فوٹو گرافر محمد الشریف نے ان آتش فشاں چٹانوں اور ان کے نتیجے میں وجود میں آنے والے غیرمعمولی حجم کے گڑھوں کے مناظر اپنے کیمرے میں محفوظ کیے ہیں۔
یہ پہاڑی آتش فشاں العیص اور املج کے مقامات کے درمیان پائے جاتے ہیں جو سعودی عرب میں شمال مغرب اور جنوب مشرق کی سمت میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ان برکانی اور آتش فشاں پہاڑی چٹانوں کا سلسلہ 65 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے اوراس کی چوڑائی 55 کلو میٹر ہے.

مجموعی طور پر یہ 3575 مربع کلو میٹر کے علاقے کو گھیرے میں ہوئے ہیں۔ مغرب میں یہ وادی الحائل اور العویند گھاٹی سے ساحل میں املج شہر سے 50 کلو میٹر دور ساحلی پہاڑوں سے ملتے ہیں۔العربیہ نیوز سے بات کرتے ہوئے محمد الشریف نے کہا کہ آتش فشاں پہاڑوں اور ان کے گڑھوں سے اکثرو بیشتر آگ کے شعلے آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان آتش فشاں پہاڑوں کو اپنی بناوٹ اور عجیب وغریب رنگوں کے اعتبار سے خاص انفرادیت حاصل ہے۔ مقامی سطح پر انہیں مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان میں المقرات، زطرہ، العقبات، الغضبا، حصینہ اور الصفا کے نام دیے جاتے ہیں۔

  • 1
    Share

About Adnan Ahmad

Check Also

اللہ پاک کا عذاب، سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.5 یکارڈ کی گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *